Tazmeem Unki Mehak Ne Dil Ke Owais Raza Qadri 24th July 2026
By Religious Record
Full Transcript
بہت مشہور کلام ہے اُن کی محک نے دل کے غنچے کلا جوحان اللہ اس پر فقیرِ قادری نے ایک تزمین کہی ہے کل بھی ایک جگہ پڑھی تھی آج پھر پڑھ گیا سنیے اور جھومیے کس نے جہنمیں جلوے دکھا دیا میں کس کے کس نے جہانے کھن کے جلوے دکھا دیا میں سوئے ہوئے مقدر کس نے جھڑکا دیئے گئے سوئے ہوئے مقرر کس نے جھڑکا دیئے گئے رنج والا ملک مارے سب مسکورا دیئیں گے ولکی سرک نے تل کے ملچے کھلا دیئے گئے جس راہ ہم چل گئے جس کا ہاں چل گئے گئے کوچے پسا دئیے گئے ہمیں جہاں کا جا کر کسے سنائے قصہ ہمیں جا کا جا کر کسے سنائے ہے منتظر کرم کی رکتی ہوئی یہ سانسیں کب رائے گاں گئی گئے دل سے اٹھیں جو آگے جنگل جوشے دل سے اُٹھی جو آگئے چھپیا یا قریب جوشے رحمت پر مرمی آتے گئی جوشِ لڑ ملتے اُن کی آنکھیں چلتے بُجھا دیئے میں چلتے بُجھا دیئے میں روتے جلتے بوجھا بھی ہیں روتے ہسا بھی ہیں وہ مکتلاءِ غم یا ویسے ہی رنجلے ہو کبھی ہوتا ہے انسان کوئی اندشان نہیں ہوتا کوئی پتشانی نہیں ہوتی لیکن اداسی ہوتی کوئی ٹینشن نہیں ہوتی لیکن اداس ہوتا ہے بندہ ویسے ہی اداس ہو مبتلاءِ غم یا ویسے ہی رنج میں ہو ان کے غلام ہو اور ایسے ہے رنج میں اُن کے غلام ہو اور ایسے ہیرن بیج میں ہو پھیجو تورو تم پر جیسے ہیرن بیج میں ہو اُن کے نصارے کوئی کیسے ہیرن جرمے کو جب یاد دلا گئی ہے سب غم دھولا دیئے ہیں لیکن انہوں نے ظلم انفسهم جاؤ فاستغفر اللہ واستغفر لهم الرسول لوجد اللہ طواب الرعیم فرآن لے چلا ہے ہم کو تمہاری جانبے فرآن لے چلا ہے ہم کو توہاں ری جانے پہ رو رو توہاں ری جانے پے مل پاریسیاں رو رو تمہاری جان پکشا گیا وہ جس کا رخ ہو تمہاری جان پہ آنے تو یاد بو تو اب تو سبحانی جان پر آنے دنیا تو بولو اب تو سبحانی جان پر کشتی تمہیں کے چھوڑی لنگر اٹھا دیئے ہیں کشت کی نمی پہ چھوڑی لنگ نگر اُٹھا دیئے ہیں جب حاضری کو جب حاضری کو گھر سے ظاہر نکلتے ہو بدینِ منورہ بھئی اپنی تیامگاہ سے جب نکلتے ہوں گے حاضری کے لئے جب حاضری کو گھر سے ظاہر نکلتے ہوں گے جذبات قلب مستر عشقوں میں ڈھلتے ہوں گے موما کی آس پا کر کیسے مچلتے روگے اگر ہم سے فقیر بھی اگر فیری کو مٹنے ہوگے اب تو غنی کے در پر بستر جمع دیئے جرم و خطا پہ اپنے پردا کسی نے مانا جرم و خطا پہ اپنے پردہ کسی نے مانگا قامانِ مصطفیٰؑ کا سیا کسی نے مانگا اور جنت میں سب سے اونچا رتبہ کسی نے مانگا میرے کریم سے سر خطرہ کسی نے مائے گا دریا بہا دیئے ہیں قلب بہا دئیے ہیں رب کی تجلیوں کا شیشہ کسی نے مانگا ان سے مچل مچل کر جلوہ کسی نے مانگا قلبوں کا صدقہ کسی سے مانگا میرے قریب سے سر خطرہ کسی سے مانگا دھریاں بہا دیئے ہیں مولا علیؑ کا ان سے جذبہ کسی نے مانگا مولا علیؑ کا ان سے جذبہ کسی نے مانگاؤں آدھا پہ اپنے دائم غلبہ کسی نے مانا آدا اے اپنے دار غلبہ کسی نے مانآ تصفیر دو جہاں کا نصفہ کسی نے مانا میرے جلی سے خطرہ کسی سے مائمہ دریا وعدہ دیئے گئے قربے وہاں دیئے گئے دریا بابا تیرے بھین عابدوں کے ہے فخر زاہدوں کے سلطان دو جہاں کے مختار ممکنوں کے سلطان دو جاں کے مختار ممکناں کے عزیموں تو جگہ کے مقزن و نعمتوں کے اثرات نے گزرے جس طرح تیرے بے قلدسیوں کے لگی سنا میں پرچم چھکا دیے ہے ہونے لگی سنا میں پرچم چھکا دیا ہے جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا محشر میں جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا پھر آئے گا وہ جس کو امت کا درد ہوگا سجدے میں سر کو رکھ کے پھر محمد ہوں گا اللہ ہاں کیا جائے ادیب سر سے ہوں گا کیا چاہے اگر ہم تین سن سے مبارک روح کی مصطفیٰؑ نے دریافہ دیئے روح کے مستقبل میں دلیلہ بہاوی ہے ان کے سخنوں کو حق نے کتنا کیا ہے ان کے سخن کو حق نے کتنا کیا مکرم اشعار پر رضا کے تزمین کیا کہے ہم باغ کہے گئے کہنا بید پیرا ملکے سکھنوں کی شاریف تم کو رکھا رب مسلم جس جن سندھ لاگئے وہ سی سے پٹھا دیے گئے عشقوں میں ڈھلتا ممکنوں کے عادی موتوں جگہ کے مقزن و نعمتوں کے اثران میں گزرے جس طرح تیرے بے قدسیوں کے لگی سلامی پر چند چھکا دیئے ہیں لگی سلامی پر چند چھکا دیئے ہیں جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا محشر میں جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا پھر آئے گا وہ جس کو امت کا دردل ہوگا سجدے میں سر کو رکھ کے پھر محوے حمد گو گا علماء ہا کیا جاگر ادیب سر سے گو گا آج آج ہم ہر دین سر سے مبارک روح کی مصطفیٰؑ نے دریافعہ دیئے اُن کے سخن کو حق نے کتنا کیا ان کے سخن کو حق نے کتنا کیا مکرم اشعار پر رضا کے تزمین کیا کرے باغ کہ گئے گئے کہنا بید پیرویا ملکے سُنکھ سُنکھی شاریف تم کو رکھا رب مسلمؑ جس طرح تلا گئے وہ اسی سے بٹھا دیے گئے کیسے مچلتے روگے ہم سے فقیر بھی اگر حیریت کو مٹتے ہوگے اب تو غنی کے در پر بستر جمع دیئے ہیں اب تو علی کے گھر پر بے اسطرح جامعہ دیئے ہیں جرم و خطا پر اپنے پردار کسی نے مانا جرم و خطا پر اپنے پردہ کسی نے مانگا قامان مصطفیٰﷺ کا سیا کسی نے مانگا اور جنت میں سب سے اونچا رتبہ کسی نے مانگا کریم سے سر خطرہ کسی نے مائے گا تریا بہا دیئے ہیں قلب بہا دئیے ہیں تجلیوں کا شیشہ کسی نے مانگا ان سے مچل مچل کر جلوہ کسی نے مانگا اُل سہرا کے لادنوں کا صدقہ کسی سے مہدا میرے قریب سے سر خطرہ کسی سے مانگا دھریاں بہا دیئے ہیں بردے بہا دئیے ہیں مولا علیؑ کا ان سے جذبہ کسی نے مانگا مولا علیؑ کم سے جذبہ کسی نے مانگا اور عادہ پہ اپنے دائم غلبہ کسی نے مانگا آتا ہے اپنے دل غلبہ کسی نے مانگا تصفیر دو جہاں کا نسخہ کسی نے مانگا میرے جلی کسی سے خطرہ کسی سے مائے ماں دریا وہاں دیئے گئے قربے وہاں دئیے گئے دریا بابا تیرے گھنے قابلوں کے ہے فخر زاہدوں کے سلطان دو جہان کے مختار ممکنوں کے سلطان دو جهان کے مختار ممکنوں کے جو تو جگہ کے مقزن و نعمتوں کے اثرات میں گزرے جس طرح تیرے بے قدسیوں کے لگی سلامی پرچم چھکا دیے ہے ہونے لگی سلامی پرچم چھکا دیے ہے جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا محشر میں جب پریشان ہر ایک عبد ہوگا پھر آئے گا وہ جس کو امت کا درد ہوگا بھیگائے وہ جس کو خوبصورت درد ہوگا سجدے میں سر کو رکھ کے پھر محوے حمد ہوگا اللہ ہاں کیا جائے گا ادیت سر سے باہر چاہے آدھی نصرؑ سے مبارک روح کے مصطفیٰؑ نے دریا بہا دیئے اُنہوں کے مصطفیٰ میں دلیلہ کہانی ہے اُن کے سخنوں کو حق نے کتنا کیا تھا ان کے سخن کو حق نے کتنا کیا مکرم اشعار پر رضا کے تزمین کیا کہے ہم باغ کہ گئے گئے کہنا بید پیرویا ملکے سکھنوں کی شارع تم کو رضا رب مسلم جس جیسا ہم بلا گئے وہ اسی سے بٹا دیے گئے
